خوشی اور غم ساتھ ساتھ : پاک فوج کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر کو کچھ عرصہ قبل کیا غم ملا تھا ؟ جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کی برّی فوج کی تاریخ میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر تعینات ہونے والی پہلی خاتون آفیسر لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر کا کہنا ہے کہ ترقی اور کامیابی کیلئے لگن اور محنت درکار ہوتی ہے، ترقی کیلئےصنف کا کوئی مسئلہ نہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی ) کو انٹرویو دیتے ہوئے

لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کمیونیکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت ہر شعبے میں اپنے جوہر دکھا رہی ہیں اور کامیابیاں سمیٹ رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کو عزت دی جاتی ہے، انہیں ایک مقام حاصل ہے اور پاکستان میں انہیں ہر طرح کا تحفظ حاصل ہے۔تھری اسٹار عہدے پر ترقی پانے والی نگار جوہر کا ماننا ہے کہ محنت، لگن اور جذبے کے ساتھ ترقی اور کامیابی کے زینے طے کرنا مشکل نہیں ہے۔انٹرویو میں نگار جوہر نے بتایا کہ انہیں پاک فوج کا حصہ ہونے پر فخر ہے۔ آرمی میرٹ پر یقین رکھتی ہے، میرا تقرر اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمگیر وبا کورونا وائرس کے حوالے سے کہا کہ اس وبا کے خلاف حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر عوام کے ہر ممکن تحفظ کیلئے کام کر رہے ہیں۔ملک کی پہلی خاتون لیفٹننٹ جنرل اور پاکستان کی پہلی خاتون سرجن جنرل تعینات ہونے والی لیفٹننٹ جنرل ڈاکٹر نگار جوہر خان کا تعلق خیبرپختونخواہ کے ضلع صوابی سے ہے۔انہوں نے راولپنڈی کے پریزینٹیشن کانوینٹ سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور پھر 1985 میں آرمی میڈیکل کالج سے گریجویشن کی۔ ان کا تعلق آرمی میڈیکل کور کے جی ڈی ایم او یعنی جنرل ڈیوٹی میڈیکل آفیسرز برانچ سے ہے۔ یہ میڈیکل میں مینیجمنٹ کا شعبہ ہے۔نگار جوہر نے نے ایڈوانس میڈیکل ایڈمنسٹریشن میں آرمڈ فورسز پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ سے 2015 میں ڈپلومہ مکمل کیا تھا۔لیفٹننٹ جنرل ڈاکٹر نگار جوہر کے والد کا تعلق بھی پاکستانی فوج سے تھا۔ ان کے شوہر بھی پاکستانی فوج سے میجر کے رینک سے ریٹائر ہوئے تھے اور گزشتہ برس ان کا انتقال ہوگیا تھا۔