ایران اور چین کے درمیان قربتوں کا پاکستان کو کیا زبردست فائدہ ہونے والا ہے ؟ زبردست خبر

کراچی (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی کے پروگرام کے خصوصی تبصرے میں بتایا گیاہے کہ بھارت اور ایران کی قربت جو چاہ بہار بندرگاہ کی وجہ سے بڑھ رہی تھی اسے دھچکا لگا ہے، ایران نے بھارت کو چاہ بہار منصوبے سے باہر نکال دیا ہے، ایران نے فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ بھارتی مدد کے

بغیر چاہ بہار منصوبہ مکمل کرے گا۔چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور مشاہد حسین سید نے کہا کہ ایران اور چین کا قریب آنا پاکستان کے لئے خوش آئند بات ہے،ن لیگ کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ چیئرمین نیب عمران خان پرکیس نہیں چلاتےتو اسکا مطلب وہ کیس نہیں فیس دیکھتے ہیں ۔چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور مشاہد حسین سید نے کہاکہ ایران اور چین کا قریب آنا پاکستان کیلئے خوش آئند بات ہے، ایران کا ہندوستا ن کو چاہ بہار بندرگاہ منصوبے سے نکالنا بڑی پیشرفت ہے، اس سے ہندوستان کے پاکستان، سی پیک اور گوادر بندرگاہ کیخلاف اقدامات کو دھچکا پہنچے گا، ایران اور چین معاہدے سے پاکستان کی مغربی سرحدیں محفوظ ہوگئی ہیں۔پاکستان کو تزویراتی جگہ ملنے کے ساتھ خطے میں پوزیشن بھی مضبوط ہوگئی ہے، لداخ میں چین کے ہاتھوں پٹائی سے بھی ہندوستان کو سبق ملا ہے۔ مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے دور میں پورے خطے سے امریکا کا انخلاء ہورہا ہے، ٹرمپ صدارتی انتخابات میں کامیابی کی امید میں چین کی مخالفت کررہا ہے۔چین کا ایران کے ساتھ تیل کی فراہمی کامعاہدہ ڈالرز میں نہیں آر ایم وی کرنسی میں ہوا ہے ، ایسے معاہدوں سے دنیا پر ڈالر کی اجارہ داری ختم ہورہی ہے۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ گوادر پورٹ کا چاہ بہارسے کوئی مقابلہ نہیں ہے ، چاہ بہار ایک چھوٹی سی بندرگاہ ہے جبکہ گوادر ڈیپ سی پورٹ ہے اس کی بڑی اسٹریٹجک اہمیت ہے۔چاہ بہار گوادرسے 120کلومیٹر دور ہے ہمارا اچھا تعاون ہونا چاہئے،

پاکستان کو خدشہ تھا کہ ہندوستان چاہ بہار کے راستے بلوچستان، سی پیک اور گوادرکوغیرمستحکم کرے گا اب یہ خدشہ ختم ہوگیاہے، انڈین راکا ایجنٹ کلبھوشن یادیو بھی چاہ بہار سے ہی پاکستان آیا تھا۔سیکرٹری جنرل ن لیگ احسن اقبال نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت سی پیک اتھارٹی پر سوالات کا جواب نہیں دے سکی تھی، ن لیگ حکومت نے بغیر کوئی اتھارٹی قائم کیے ساڑھے 28ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری میٹرلائز کی تھی۔حکومت سمجھ نہیں رہی کہ سی پیک انٹر منسٹریل پراجیکٹ ہے جس میں چودہ پندرہ وزارتیں شامل ہیں، اگر ان وزارتوں نے اپنا کام کرنا ہے تو سی پیک اتھارٹی ڈپلی کیشن ہوگی، سی پیک کیلئے پندرہ وزارتوں کو ٹیم اپروچ سے کامیاب کیا جاسکتا ہے، سی پیک اتھارٹی کی تمام وزارتوں سے رسہ کشی شروع ہوجائے گی جوپچھلے چھ مہینے میں دیکھی جارہی ہے، سی پیک اتھارٹی قیام کے بعد سے کوئی قابل ذکر کام نہیں کرسکی ہے۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ سی پیک میں پاکستان کی سول ایڈمنسٹریشن اور پبلک سیکٹر نے کام کرکے دکھایا ہے، پی ٹی آئی حکومت اس کے باوجود سی پیک کو کیوں سول ڈومین سے نکالنا چاہتی ہے، اتھارٹی بنانے سے سی پیک تیز نہیں مزید سست اور پیچیدگی کا شکار ہوجائے گا، پنجاب میں توانائی کے منصوبے تیزی سے مکمل ہوئے جس پر شہباز شریف کو پنجاب اسپیڈ کا نام دیا گیا۔احسن اقبال نے کہا کہ حکومت کے پاس صلاحیت نہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سول ایڈمنسٹریشن کو تباہ کردے، ٹڈی دل سے نمٹنے کیلئے تحصیلدار یا اسسٹنٹ کمشنر کافی ہوتے تھے انہوں نے وہاں فوج کے سینئر افسران کو لگادیا ہے، سی پیک کا فلیگ شپ منصوبہ ایم ایل ون ساڑھے سات ارب ڈالر کا ہے جس کیلئے حکومت نے صرف چھ ارب روپے بجٹ میں رکھے ہیں، اس رفتار سے ایم ایل ون کو مکمل ہونے میں 197سال لگیں گے۔