“بھٹو صاحب بلا مقابلہ جیت گئے، عباسی صاحب بلا مقابلہ ہار گئے” بھٹو کو کن حربوں سے میدان میں اتارا کیا گیا اور تب سے اب تک بھٹو زندہ کیوں ہے ؟ ایک پرانا مگر پول کھول دینے والا واقعہ ملاحظہ کیجیے

لاہور (ویب ڈیسک) بھٹو صاحب کے مداح ان کا شمار اس عہد کے ذہین ترین رہنمائوں میں کرتے ہیں۔ وہ وسیع المطالعہ تھے‘ مغرب کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل تھے‘ دیوار کے اس پار دیکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے‘ خود اعتمادی بھی بلا کی تھی‘ مگر حد سے بڑھی ہوئی خود اعتمادی بھی ‘

نامور کالم نگار رؤف طاہر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ غلط فیصلوں کا باعث بن جاتی ہے۔ بھٹو صاحب کا خیال تھا کہ اپوزیشن نیم جان ہے‘جبر کے مختلف حربوں اور ہتھکنڈوں نے اس کے اعصاب توڑ دیئے ہیں۔ یہ بکھری ہوئی بھی ہے۔ادھر گلی گلی محلے محلے پیپلز گارڈ ہیں‘ فیڈرل سکیورٹی فورس بھی ہے‘ بیوروکریسی اور پولیس ‘ میں بھی کسی میں سرتابی کی ہمت نہیں‘ پولیس کے (سابق )انسپکٹر جنرل رائو رشید اب انٹیلی جنس بیوروکے سربراہ تھے‘ ان کی رپورٹس بھی یہی بتا رہی تھیں کہ نئے انتخابات کے لیے وقت نہایت ساز گار ہے۔ چنانچہ انہوں نے7جنوری1977کو نئے انتخابات کا اعلان کردیا‘ قومی اسمبلی کے انتخابات کے لیے7مارچ اور صوبائی انتخابات کے لیے10مارچ کی تاریخ طے پائی۔ یہیں سے حالات ایک نیا رخ اختیار کر گئے‘ نیم جان اور منقسم اپوزیشن‘ انگڑائی لے کر اٹھ کھڑی ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان قومی اتحاد وجود میں آگیا۔ معاشرے میں بھٹو سے ناراض تمام طبقات بھی اس کی پشت پر آن کھڑے ہوئے تھے۔ بھٹو صاحب کے لیے یہ سخت حیرت اور صدمے کی بات تھی۔ بھٹو صاحب کے آبائی حلقے لاڑکانہ میں جماعت اسلامی کے مولانا جان محمد عباسی قومی اتحاد کے امیدوار تھے۔ انہیں کاغذات نامزدگی ہی داخل نہ کرنے دیئے گئے‘ خالد احمد خاں کھرل (بے نظیر صاحبہ کے دوسرے دور میں وفاقی وزیر اطلاعات )لاڑکانہ کے ڈپٹی کمشنر تھے۔ عباسی صاحب کو غائب کرنے کا” کارنامہ‘‘ انہی کے ہاتھوں انجام پایا۔شامی صاحب کے ہفت روزے کے سرورق پر دوتصاویر تھیں اور نیچے کیپشن تھے: بھٹو صاحب بلا مقابلہ جیت گئے۔ عباسی صاحب بلا مقابلہ ہار گئے… چاروں وزراء اعلیٰ بھی بلا مقابلہ جیت گئے‘ سندھ میں ممتاز بھٹو اور یوسف چانڈیو اور پنجاب کے سینئر وزیر رانا شوکت محمود بھی بلا مقابلہ والے خوش نصیبوں میں شامل تھے۔ الیکشن کا عمل اپنے آغاز ہی میں داغدار ہوگیا تھا۔ اپوزیشن کی انتخابی مہم نے ملک بھر میں طوفان اٹھا دیا۔ایئر مارشل اصغر خاں‘ بھٹو کو کوہالہ کے پل پر پھانسی دینے کا اعلان کر رہے تھے۔ کراچی میں ان کا جلوس 9گھنٹے میں جلسہ گاہ پہنچا۔ لاہور بھی ماضی کے سارے قرض چکانے پر تُل گیا تھا اور پھر سات مارچ کو جو کچھ ہوا‘ صرف ایک تصویر یہ ساری کہانی بیان کرنے کے لیے کافی تھی۔ (ش س م)