یہ ہیں ہمارے اصل ہیروز : پنجاب پولیس کے اس سب انسپکٹر کی ایک خوبی جان کر آپ انہیں سیلوٹ کر اٹھیں گے

لاہور (ویب ڈیسک)پنجاب پولیس کے سب انسپکٹر محمد عرفان نے کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرلی اور اب وہ سب انسپکٹر ڈاکٹر محمد عرفان بن گئے ہیں ۔ محمد عرفان 2007 سے محکمہ پولیس میں فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ انہوں نے تمام تر مشکلات اور مصروفیات کے

باوجود اپنا تعلیمی مشن جاری رکھا اور فرائض کی ادائیگی کے ساتھ حصول تعلیم کا شوق رکھنے والے محمد عرفان ہمت نے ساڑھے چار سال ان تھک محنت کے بعد اپنا مقصد پورا کر لیا اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر لی ۔ سب انسپکٹر محمد عرفان ان تمام لوگوں کیلئے ایک مثال ہیں جو قسمت یا پھر وسائل کا رونا روتے ہیں اور مشکلات کو حصول علم سے غافل ہونے کی وجہ قرار دیتے ہیں۔ دراصل سب انسپکٹر محمد عرفان جیسے نوجوان ہی اس قوم کے اصل ہیروز ہیں ۔ ایک اور خبر کے مطابق خیبرپختون خوا کے ضلع چترال کے تاریخی اور قدیم علاقے وادی کیلاش کی ماسٹر ڈگری ہولڈر لیڈی کانسٹیبل کمیونٹی پولیسنگ میں اہم کردار ادا کررہی ہیں اور جمینہ کیلاش قبیلے کی واحد خاتون ہیں جنہوں نے ایم اے پولیٹیکل سانئس میں پاس کرکے بہادر فورس کا حصہ بننے کوترجیح دی۔ضلع چترال میں خواتین پولیس فورس میں شمولیت کو ترجیح دینے لگیں، چترال کے سب سے قدیمی قبیلے سے تعلق رکھنے والی لیڈی کانسٹیبل جمینہ اپنے علاقے کی واحد خاتون ہیں جنہوں نے ایم اے پولیٹیکل سائنس میں کیا اور پولیس فورس میں اپنے علاقے کا نام روش کرنے کی ٹھان لی۔وادی کیلاش کی 33 سالہ جمینہ کمیونٹی پولیسنگ میں اپنے علاقے کے لوگوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔انہوں نے شرینگل یونیورسٹی سے ایم اے پولیٹیکل سائنس میں کیا، اب وہ وادی کیلاش سے پولیس میں واحد خاتون سپاہی ہیں جس نے ایم اے کی ڈگری حاصل کی ہے جب کہ ابتدائی تعلیم کیلاش قبیلے میں قائم سرکاری اسکول سے حاصل کی۔