نہیں چاہیے مجھے تمھارا ٹکٹ مسلم لیگ (ن) کا سب سے تگڑارہنما عمران خان کا دیوانہ ہو گیا ایسا کام کرڈالا کہ لیگی قیادت ہکا بکا رہ گئی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور رکن پنجاب اسمبلی مولانا غیاث الدین نے ایک مرتبہ پھر وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کر ڈالی۔ جبکہ انھیں پارٹی قیادت کی جانب سے شوکاز نوٹس بھی موصول ہو چکا ہے،ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کی اپنی ذات کو دیکھا جائے تو وہ ایک ایماندار آدمی ہیں

اگر پارٹی قیادت انھیں حقارت کی نگا ہ سے دیکھے گی تو وہ ٹکٹ کی بھیک نہیں مانگیں گے۔آئندہ الیکشن کے حوالہ سے فیصلہ سوچ سمجھ کر اور مشاور ت کے بعد کیا جائے گا۔غیاث الدین کا کہناتھا کہ ان کی عثمان بزدار سے ملاقات کا مقصد دیہی علاقے کے عوام کے مسائل کو حل کروانا تھا۔ عثمان بزدار ان لوگوں کے مسائل کو خوب اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب نواز شریف کے ساتھ مبینہ رابطہ کی خبروں پر سابق پی ٹی آئی رہنما اور عمران خان کے دیرینہ دوست جہانگیر ترین نے بالآخر خاموشی توڑ دی ، ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے عمران خان کے ساتھ مل کر کرپٹ نظام کے خلاف جنگ لڑی میں نواز شریف کے ساتھ رابطے کے بارے سوچ بھی نہیں سکتا ۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما رانا ثناءاللہ نے نواز شریف اور جہانگیر ترین میں رابطے کی تصدیق کی تھی انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین اور نواز شریف کے درمیان ملاقات کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ان میں براہ راست ملاقات نہیں ہوئی البتہ کچھ لوگوں کی وساطت سے دونوں میں رابطہ ضرور ہوا ہے۔اس پر اب جہانگیر ترین کا بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ میرا نواز شریف سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کے خلاف عمران خان کے ساتھ مل کرجدوجہد کی۔میں ایسی حرکت کا تصور بھی نہیں کرسکتا،جہانگیر ترین نے کہا کہ ڈوبتی کشتی کے سہارے کیلئےمیرا کندھا استعمال نہ کیا جائے۔واضح رہے کہ جہانگیر ترین گذشتہ دنوں لندن گئے تھے جس کے بعد ان کے اور نواز شریف کے درمیان ملاقاتوں کی افواہوں نے زور پکڑ لیا تھا۔رائع کے دعویٰ سے متعلق سوشل میڈیا پر خبریں گردش کررہی تھیں کہ وزیراعظم عمران خان سے ناراضگی اور شوگر اسکینڈل میں نام آنے کے بعد جہانگیر ترین نے لندن آتے ہی دو مرتبہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ملاقات کے لیے پیغام بھجوایا۔جس کے جواب میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے ملاقات کی مشروط آمادگی ظاہر کی۔ ‏لیکن کچھ روز تک مکمل خاموشی چھائی رہی جس سے لگا کہ نواز شریف نے جو شرائط رکھی تھیں وہ عملدرآمد کے قابل نہیں تھیں۔تاہم جہانگیر ترین نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ میں موقع پرست نہیں کہ نواز کےساتھ جا کر بیٹھ جاؤں۔ا۔ انہوں نے اپنے آڈیو بیان میں واضح کیا کہ میں اصولوں پر چلنے والا سیاستدان ہوں، میں موقع پرست نہیں کہ ان کے ساتھ جا کر بیٹھ جاؤں۔میں نوازشریف سے کوئی ملاقات نہیں کی اور نہ ہی نوازشریف سے ملاقات کرنے کا کوئی خواہش رکھتا ہوں۔ ن لیگ کیخلاف ہماری ایک جدوجہد رہی ہے۔ نوازشریف سے ملاقات کے حوالے سے سابق وزیر اعظم کا میڈیا سیل بےبنیاد خبریں پھیلا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری پوری کوشش ہوگی کہ میں تحریک انصاف کے ساتھ رہوں۔