پائلٹس کی جعلی ڈگریوں کے معاملہ کا ڈراپ سین : 66جعلی لائسنس کسنے بذات خود جاری کیے ؟؟ نام جان کر آپ یقین نہیں کریں گے

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سیاسی بھرتیاں کر کے پی آئی اے کو تباہ کیا، قومی ادارے کی تباہی میں پیپلزپارٹی کا ہاتھ ہے جس نے 66 جعلی لائسنس جاری کئے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے میڈیا کمیونیکیشن شہباز گل نے کہا ہے

کہ پی آئی اے میں پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے گند کو ہم صاف کر رہے ہیں، 180 لائسنس مسلم لیگ (ن) نے جاری کیے جبکہ 66 جعلی لائسنس پیپلز پارٹی کے کرپشن زدہ ہاتھوں سے جاری ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کو زمین بوس کرنیوالے آج مگرمچھ کیآنسو بہا رہے ہیں، وزیراعظم مافیازکیخلاف جبکہ پیپلزپارٹی پشت پنائی کررہی ہے،انہوں نے کہ مافیاز کے خلاف کارروائی پر ملک میں مختلف بحران پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تاہم اب ملک کو لوٹنے والے مافیاز کی گردن ناپنے کا وقت آ گیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے ترجمان عبداللہ حفیظ نے جمعرات پچیس جون کو خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ فیصلہ اس وجہ سے کیا گیا کہ حکومت کی طرف سے گزشتہ برس کرائی گئی ایک چھان بین کے نتیجے میں پتا یہ چلا تھا کہ اس فضائی کمپنی کے 434 پائلٹوں میں سے تقریباﹰ 150 کے لائسنس ‘یا تو جعلی تھے یا مشکوک دنیا کے دس بڑے ہوائی اڈے کون سے ہیں؟امریکی ریاست جارجیا میں اٹلانٹا کے ہارٹس فیلڈ جیکسن ایئر پورٹ کا دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں شمار ہوتا ہے۔ سن 2017 میں ایک سو چار ملین مسافروں نے اس ہوائی اڈے سے اڑنے والی پروازوں میں سفر کیا۔ دنیا کے کسی دوسرے ہوائی اڈے سے اتنی تعداد میں مسافر اپنی منزلوں کی جانب روانہ نہیں ہوئے۔اہم بات یہ بھی ہے کہ پی آئی اے نے اپنے تقریباﹰ ایک تہائی پیشہ ور پائلٹوں کو گراؤنڈ کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے، اس سے قریب ایک ماہ قبل کراچی میں اسی ایئرلائن کی ایک مسافر پرواز ایک رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہو گئی تھی۔ اس سانحے میں ایک ایئربس اے تین سو بیس میں سوار مسافروں اور عملے کے ارکان سمیت کُل 99 افراد میں سے 97 ہلاک ہو گئے تھے۔کراچی کریش کی وجہ انسانی غلطیبائیس مئی کو کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب اس فضائی سانحے کی چھان بین کے بعد جو ابتدائی رپورٹ تیار کی گئی تھی، اس کی تفصیلات سے ہوا بازی کے ملکی وزیر نے بدھ چوبیس جون کو اسلام آباد میں قومی پارلیمان کو آگاہ کیا تھا۔

شہری ہوا بازی کے وزیر غلام سرور خان نے بین الاقوامی ماہرین کے تعاون سے تیار کی گئی اس تفتیشی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے پارلیمان کو بتایا تھا کہ یہ ایئر کریش ‘انسانی غلطی‘ کا نتیجہ تھا۔ ایوی ایشن وزیر کے مطابق اس غلطی کے مرتکب اس طیارے کا پائلٹ اور متعلقہ ایئر ٹریفک کنٹرولر دونوں ہی ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ طیارے کی لینڈنگ کی پہلی کوشش کے وقت پائلٹ اور اس کا معاون پائلٹ دونوں کورونا وائرس کی وبا سے متعلق گفتگو میں اس قدر مصروف تھے کہ ان کی پوری توجہ طیارے کی بحفاظت لینڈنگ کی طرف تھی ہی نہیں۔دنیا میں سب سے زیادہ ہوائی اڈے کن ممالک میں؟1۔ امریکاہوائی اڈوں اور ایئر فیلڈز کی سب سے زیادہ تعداد امریکا میں ہے۔ اس ملک میں ایسی جگہوں کی تعداد، جہاں ہوائی جہاز اتر سکتے ہیں، 13513 بنتی ہے۔ امریکی فضاؤں میں کسی بھی ایک روز کے دوران کم از کم 87 ہزار ہوائی جہاز پرواز بھرتے ہیں۔ دنیا کا سب سے بڑا ایئرپورٹ (ڈینور انٹرنیشنل) بھی امریکا ہی میں ہے۔کُل 260 سے زائد پاکستانی پائلٹوں کے لائسنس جعلی یا مشکوکپی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ کے مطابق جب تک فی الفور گراؤنڈ کر دیے گئے پائلٹوں کے لائسنوں کے درست ہونے سے متعلق حتمی تسلی نہیں ہوتی، انہیں اس ادارے کا کوئی ہوائی جہاز اڑانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پی آئی اے کے ایسے پائلٹوں کے لائسنسوں سے متعلق یہ بات دراصل ایک روز قبل اس وقت بھی تقریباﹰ یقینی ہو گئی تھی، جب غلام سرور خان پارلیمان کو تفصیلات بتا رہے تھے۔انہوں نے گزشتہ برس کرائی گئی سرکاری چھان بین کے نتائج بتاتے ہوئے پارلیمان میں کہا تھا، ”پاکستان میں 860 فعال پائلٹوں کے لائسنسوں کا جو جائزہ حکومت نے لیا، اس کے مطابق 260 سے زائد (تقریباﹰ 30 فیصد) پائلٹ ایسے تھے، جن کے فلائنگ لائسنس یا تو سرے سے ہی جعلی تھے یا پھر اس لیے مشکوک کہ انہوں نے پیشہ وارانہ امتحانات دیتے ہوئے بددیانتی کی تھی۔پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے پاس اس وقت کُل 31 قابل استعمال طیارے ہیں لیکن اس کے ملازمین کی تعداد تقریباﹰ 14,500 بنتی ہے۔ 1970ء کی دہائی میں پی آئی اے خطے کی کامیاب ترین اور سب سے بڑی فضائی کمپنیوں میں سے ایک تھی۔ اس وقت لیکن اس قومی ادارے کو اپنی ساکھ میں بہت زیادہ تنزلی، پروازوں کی بار بار منسوخی، مسلسل تاخیر اور وسیع تر مالی خسارے جیسے شدید مسائل کا سامنا ہے۔