بریکنگ نیوز: اسلام آباد کے حالات کشیدہ ، لال مسجد والے مولانا عبدالعزیز نے اچانک کس جگہ پر قبضہ کر لیا ؟ حیران کن اطلاعات

اسلام آباد (ویب ڈیسک) لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز نے اسلام آباد کے ایک مدرسے کے مہتمم کو ہٹاکر وہاں کا کنٹرول خود سنبھال لیا ہے، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی پیدا ہو چکی ہے مولانا عبدالعزیز پیر کی رات اسلام آباد کے ای سیون سیکٹر میں قائم مدرسے جامعہ فریدیہ

میں اپنی اہلیہ اور طالب علموں کے ساتھ داخل ہوئے۔ انہوں نے مدرسے کے مہتمم مولانا عبدالغفار کو ان کے عہدے سے ہٹادیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ اب وہ خود اس عہدے پر کام کریں گے۔مولانا کے اس اقدام کی وجہ سے علاقے میں خوف کی فضا پیدا ہوگئی ہے۔ سینکڑوں کی تعداد میں پولیس والوں کو علاقے میں متعین کردیا گیا ہے۔ کوہسار تھانے کے ایک اہلکار طالب حسین نے بتایا کہ اصل مسئلہ جائیداد کی ملکیت کا ہے۔انہوں نے بتایا، “مولانا عزیز کہتے ہیں کہ مدرسہ ان کا ہے جب کہ مولانا عبدالغفار کا دعوی ہے کہ مدرسہ ان کی ملکیت ہے۔ ابھی تک کسی گڑبڑ کی اطلاع نہیں۔ پولیس کی نفری وہاں موجود ہے جب کہ علاقے کے کچھ حصے کی ناکہ بندی بھی کی گئی ہے تاکہ دوسرے علاقوں سے طالب علم وہاں نہ پہنچ پائیں۔”اس مسئلے پر مولانا عبدالعزیز نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، “میں نے مولانا عبدالغفار کو ان کے عہدے سے ہٹادیا ہے اور وہ اس فیصلے کو نہیں مان رہے۔ میں نے ان کے پیر بھی پکڑے لیکن انہوں نے یہ فیصلہ نہیں مانا اور وہ اب بھی مدرسے سے ملحقہ گھر میں رہائش پزیر ہیں اور میں بھی ایک سو اسی طلباء کےساتھ موجود ہوں۔”ان سے پوچھا گیا کہ اگر مولانا عبدالغفار نے مدرسے کی سربراہی نہیں چھوڑی تو پھر؟ ان کا جواب تھا، “اس بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہے۔ کوشش جارہی ہے کہ یہ معاملہ حل ہو جائے لیکن انتظامیہ ان کی مدد کر رہی ہے او حکومت ہم پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ میں نے پہلے بھی دباؤ کا سامنا کیا ہے اور اب بھی کروں گا۔”