وہ پھول جو بن کھلے مرجھا گئے : شیخوپورہ ٹرین حادثے میں جان بحق ہونے والی 8 سالہ جیسلین کور پاکستان کے لیے کیا کرنے کی خواہشمند تھی ؟ جانیے

پشاور (ویب ڈیسک) چند روز قبل شیخوپورہ ٹرین کے افسوسناک واقعہ میں پشاور کے محلہ جوگن شاہ سے تعلق رکھنے والے سکھ کمیونٹی کے 19 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ ان میں 8 سالہ جیسلین کور بھی شامل تھی ۔ 8 سالہ جیلسن کور بھی بس میں سوار ہو کر ننکانہ صاحب آئی

مگر پھر قضا نے آ لیا ، بچی کا ٹیچر بننے کا خواب پورا نہ ہوسکا۔جیلسن کور کی موت کی خبر سن کر سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی طالبات دن بھر اسکی یاد میں روتی رہیں ۔ ننھی طالبہ کا خواب تھا کہ وہ تعلیم حاصل کر کے اپنی کمیونٹی کا قومی اور بین الاقوامی سطح پر نام روشن کرے۔سکھ کمیونٹی کے رہنما ڈاکٹر صاحب سنگھ کے مطابق اس حادثے میں جیلسن کور کے گھر کے 5 افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ،اس خاندان کا اچانک حادثے نے سب کچھ چھین لیا، جیلسن کور بہت اچھی بچی تھی اس کے غم میں سکھ کمیونٹی بہت زیادہ افسردہ ہے۔دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی میں پولیس کے اشتہاریوں کے ساتھ مقابلے میں ڈی ایس پی علامہ اقبال شہید ہو گئے ہیں ، خبروں کے مطابق ضلع صوابی کے گاؤں کالو خان میں ملزمان کی پولیس پر فائرنگ سے ڈی ایس پی رزڑ علامہ اقبال شہید اور 3 پولیس اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔ڈی ایس پی علامہ اقبال نے اشتہاری ملزمان کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر ان کی گرفتاری کےلیے نفری کے ہمراہ ملزمان کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا کہ پولیس کو دیکھتے ہی انہوں نے فائرنگ کردی جس سے ڈی ایس پی علامہ اقبال زخمی ہو گئے اور تاب نہ لاکر چل بسے ۔ پولیس کی جوابی فائرنگ سے ایک ملزم بھی پار ہو گیا ۔