ٹی وی سکرین پر جو کہتے ہیں سب ڈرامہ ہے ، اندر خانے تحریک انصاف والوں کا یہ حال ہے کہ ۔۔۔۔ رؤف کلاسرا نے ایسے حقائق بیان کردیے کہ پول کھل کر رہ گیا ، دنگ کر ڈالنےو الے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر مراد سعید جب سے پارلیمنٹ آئے ہیں وہ ہر وقت خبروں میں رہتے ہیں۔ دو ہزار تیرہ کی اسمبلی میں اگر اپوزیشن بینچوں سے کچھ نئی آوازیں ابھریں جنہوں نے نواز حکومت کو ٹف ٹائم دیا تو ان میں مراد سعید نمایاں تھے۔ نوجوان طالب علم راہنما تھے

لہٰذا جوش و جذبہ جوان تھا جس کا انہوں نے خوب استعمال کیا اور بہت جلد قومی میڈیا میں نمایاں ہو گئے۔ نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ پشتونوں کا مخصوص جارحانہ انداز ان کی پہچان بن گیا۔ آج وزیر بن کر بھی ان کا لب و لہجہ اور جارحانہ انداز وہی ہے جو اپوزیشن کے دنوں میں تھا۔اگر پی ٹی آئی کے نئے ایم این ایز میں سے کسی نے قومی اسمبلی کی کارروائی اور کمیٹیوں کا صحیح فائدہ اٹھایا تو وہ اسد عمر، مراد سعید اور عارف علوی صاحبان تھے۔ اسد عمر نے فنانس کمیٹی میں اچھی پرفارمنس دکھائی اور بہت سے اہم ایجنڈے اور آئٹمز کمیٹی میں لائے جس سے حکومت کیلئے مسائل پیدا ہوئے۔ اسد عمر نے ہائوس کے اندر بھی اچھی تقریریں کیں جس سے اندازہ ہوا کہ وہ ملک کے اگلے وزیر خزانہ ہوں گے۔ وہ بن بھی گئے لیکن جتنی اچھی پرفارمنس انہوں نے کمیٹی اجلاس اور پارلیمنٹ میں دکھائی تھی وزیر بن کر نہ دکھا سکے بلکہ مجھے یوں کہنے دیں‘ انہیں پہلے استعمال کرکے سب وہ کام کرائے گئے جس سے وہ اَن پاپولر ہوئے جس میں پیسے کی قدر گرانا اور گیس‘ بجلی کی قیمتوں میں اضافے شامل تھے۔ آخرکار وہ فارغ کر دیے گئے اور بڑی مشکلوں سے وہ کچھ لوگوں سے صلح بعد دوبارہ وزیر کا حلف اٹھا سکے۔ اب ہو سکتا ہے کہ ان کے اندر کا باغی آرام سے سو گیا ہے کہ پاکستان میں وزیر بن کر رہو، ہر وقت وزیر اعظم کی تعریفیں کرو۔

یہ ہر پارٹی کا فارمولہ ہے جو اسد عمر کو دیر سے سمجھ میں آیا ہے۔ آج کل وہ پھر کابینہ میں وزیروں کے ہاتھوں تنقید کا سامنا کررہے ہیں۔ پہلے فواد چوہدری نے ان پر الزام لگایا اور پھر فیصل وائوڈا نے بھی کابینہ میں سخت تقریر کی کہ کچھ لوگ عمران خان کے خلاف سازش کررہے ہیں اور وہ وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف عارف علوی صاحب پبلک اکائونٹس کمیٹی کے پانچ سال ممبر رہے۔ وہ وہاں اچھی بحث کرتے تھے۔ وہ آڈٹ ڈاکومنٹ پڑھ کر آتے اور اچھے سوالات پوچھتے۔ ایک دن عارف علوی نے شریف خاندان کی منی لانڈرنگ پر کمنٹ کیا۔ ان دنوں پانامہ کا ایشو چل رہا تھا۔ اس پر نواز لیگ کے دو ارکان نے انہیں ڈرایا کہ اگر فوراً معافی نہ مانگی تو پھر ان کی خیر نہیں۔ عارف علوی صاحب نے معذرت میں ایک منٹ نہیں لگایا۔میں وہیں اجلاس میں موجود تھا۔ ہم سب میڈیا کے لوگ بیٹھے ہنس رہے تھے کہ یہ حالت ہے کہ اجلاس میں تھوڑا سا نواز لیگ نے دبایا تو عارف علوی نے فوراً معافی مانگ لی۔ بھائی اگر پانامہ پر سٹینڈ لیا ہوا ہے تو معافی کس بات کی؟ شاید عمران خان کو عارف علوی صاحب کی اس خوبی کا پتہ چلا ہوگا کہ انہیں دبایا جائے تو فوراً معافی مانگ لیتے ہیں لہٰذا اٹھا کر فوراً صدر بنا دیا‘ جہاں عارف علوی صاحب نے ایک مشاعرہ کرایا جس کے اخراجات چھتیس لاکھ روپے ہوئے۔ وزیر اعظم ہائوس کی بھینسیں بیچ کر چھبیس لاکھ کمائے گئے تھے‘ جس کا ڈھنڈورا پوری دنیا میں پیٹا گیا۔ ایک ہی ہلے میں مشاعرے میں پیسے پورے کر لیے گئے۔ ان دونوں کے برعکس مراد سعید نے کمزوری نہ دکھائی۔ ان پر نواز لیگ کے کچھ ارکان نے بڑے گھٹیا اور ذاتی حملے بھی ہائوس میں کیے لیکن مراد سعید نے اس کے باوجود اپنا وتیرہ نہ چھوڑا۔ بہت جلد پیپلز پارٹی کے ارکان نے بھی مراد سعید کے خلاف محاذ جوائن کر لیا۔ بلاول بھٹو کو ٹارگٹ کرنے کا ٹاسک مراد سعید نے سنبھال لیا اور پھر ہم نے دیکھا‘ جونہی مراد سعید ہائوس میں کھڑے ہوتے تو بلاول بھٹو اور اپوزیشن دونوں ہائوس چھوڑ کر چلے جاتے۔ عمران خان ہائوس میں نہ آنے کا جواز یہ بتاتے ہیں کہ ان کے خلاف گھٹیا کمنٹس اپوزیشن بنچوں سے پاس کیے جاتے ہیں۔ تو پھر داد دینی پڑے گی مراد سعید کو جن کو سب سے زیادہ ایسے جملوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن انہوں نے ہائوس نہیں چھوڑا۔ اس طرح وہ کابینہ میں بھی بڑے جوش سے شریک ہوتے رہے ہیں اور سنا ہے وہاں بھی اپوزیشن لیڈر کا سا ماحول بنا رکھا ہے۔