پاکستان کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل ڈاکٹر نگار جوہر خان کو پاک فوج میں کس نام سے پکارا جاتا ہے ؟ ایسے حقائق جن سے آپ لاعلم ہونگے

لاہور (ویب ڈیسک) خبر چھپی ہے کہ ”آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کی میڈیکل کور سے وابستہ میجر جنرل ڈاکٹر نگار جوہر خان کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی اور انہیں سرجن جنرل کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔ ڈی جی ISPR میجر جنرل بابر افتخار کی جانب سے ٹوئٹر پہ

نامور کالم نگار راجہ شاہد رشید اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جاری بیان کے مطابق ڈاکٹر نگار جوہر LF جنرل کے عہدے پر ترقی پانے والی پہلی خاتون افسر ہیں، پاک فوج کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا کہ کسی خاتون کو سرجن جنرل کا عہدہ ملا“۔ میری نظر میں یہ احسن اقدام ہے اور بہت بڑا کام ہے جس سے سارے عالم میں یہ مثبت پیغام پھیلے گا کہ مسلم اُمہ، مسلم ممالک و ادارے بلکہ جملہ اہل اسلام خواتین کو کس قدر عزت عظمت و اہمیت دیتے ہیں۔ آج ملکی و عالمی میڈیا BBC تک سبھی پاک فوج اور LF جنرل ڈاکٹر نگار جوہر کی تعریفیں فرما رہے ہیں اور خدمات گنوا رہے ہیں کہ پاک وطن کی پاک فوج کی پہلی خاتون LF جنرل اور سرجن جنرل کو ست سلام اور ساتھ سلیوٹ بھی۔ڈاکٹر نگار کا پیدائشی تعلق صوابی کے علاقے پنج پائی سے ہے لیکن وہ پورے پاکستان کی خواتین کیلئے باعثِ فخر اور لائقِ تقلید ہیں۔ وہ میجر عامر کی بھتیجی ہیں اور ان کے والد کرنل قادر نے بھی آئی ایس آئی میں خدمات سرانجام دیں، ISPR کے میگزین ”ہلال فارہر“ کو انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ وہ انہی کو دیکھ کر فوج میں آئی تھیں، آرمی ڈاکٹر بننا ایک خواب تھا جو 1985ء میں بطور کیپٹن ڈاکٹر کمیشن ملنے پہ پورا ہوا۔ اُنہوں نے ایڈوانس میڈیکل ایڈمنسٹریشن میں آرمڈ فورسز پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ سے 2015 میں ڈپلومہ مکمل کیا تھا۔ ISPR کے مطابق ڈاکٹر نگار کمانڈنگ آفیسر سی ایم ایچ جہلم، ڈپٹی کمانڈنٹ سی ایم ایچ راولپنڈی، آرمی میڈیکل کالج کی وائس پرنسپل اور کمانڈنٹ ایم ایچ راولپنڈی تعینات رہیں۔ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے ملٹری ہسپتال کی کمانڈنٹ کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہی تھیں۔ان کے ساتھ کام کرنے والی ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ جب جنرل نگار کسی دفتر میں ہوں تو وہ وہاں چار مرد آفیسر ز کے برابر کام کرتی ہیں، انھیں پیشہ وارانہ زندگی میں انتہائی تُندی سے کام کرنے والی افسر کی شہرت حاصل ہے۔ ڈاکٹر نگار جو ہر کو فوج کی میڈیکل کور میں ”موور“ کہا جاتا ہے یعنی ایک ایسی افسر جو کبھی بھی کام روکتی نہیں ہیں۔ یہ اعزاز ملنے کے بعد جب ڈھول باجے بج رہے تھے دم دم دھمال اور لڈیاں ڈل رہی تھیں، محترمہ ڈاکٹر نگار کو سلام ٹھک ٹھک سلیوٹ کے سنگ سلامیاں دی جا رہی تھیں اورگلے میں پھولوں کے ہار ڈالے جا رہے تھے تب جنرل نگار جوہر کی خوشی دیدنی تھی اور عاجزی و انکساری بھی۔