دنیا کی واحد سپر پاور بننے کے لیے چین آج کل کیا حربے استعمال کر رہا ہے ؟ ایف بی آئی کے انکشافات

واشنگٹن (ویب ڈیسک) ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے نے انکشاف کیا ہے کہ چین دنیا کی واحد سپر پاور بننے کے لیے مصروف عمل ہے اور چینی لیڈر ایسے طریقہ کار پر عمل پیرا ہیں جس کا مقصد کسی نہ کسی طریقے سے چین کو دنیا کی واحد سپرپاور بنانا ہے

ایف بی آئی ڈائریکٹر کرسٹوفر رے نے واشنگٹن کے معروف تھنک ٹینک، ہڈسن انسٹیٹیوٹ کے ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تجزیہ پیش کیاکہ چین اس مقصد کے حصول کے لئے مختلف حربے استعمال کر رہا ہے اور سپر پاور بننے کے لوازمات پورے کرنے کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے جن میں معاشی جاسوسی، انٹیلی جنس تک خفیہ رسائی، تعلیمی اداروں کی سنسر شپ کی حوصلہ افزائی شامل ہیں۔ چین کی اہم ترین تکنیک امریکہ میں چینی مفادات کی وکالت کیلئے بیرونی اثر و رسوخ کو ناجائز طریقے سے استعمال کر کے طاقت طور لوگوں کو ہمنوا بنانا ہے۔ مسٹر رے نے زور دیا کہ چین نے خود تو اندرونی طور پر ایک بند ماحول برقرار رکھا ہے جبکہ وہ امریکہ کے کھلے نظام کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ وہ امریکہ میں کام کرنے والی چینی کمپنیوں کے ذریعے معلومات اور اعداد وشمار جمع کر لیتا ہے جس سے اسے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔چین کی طرف سے غیر محسوس ہونے والے دباؤ کے نتیجے میں امریکہ کے پالیسی ساز ادارے اور افراد متاثر ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں چین تمام امریکی فیصلوں میں اپنے مفادات کا تحفظ کرانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس طرح چینی کمیونسٹ پارٹی اپنے جنرل سیکرٹری ژی جن پنگ کی قیادت میں مختلف طریقوں سے امریکیوں اور ان کی ایجادات اور ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آپ امریکی بالغ ہیں تو زیادہ امکان ہے کہ چین نے آپ کا ذاتی ڈیٹا چرا لیا ہو۔