بریکنگ نیوز: یورپی یونین نے 32 ممالک میں پاکستانی پائلٹس کو کام کرنے سے روکنے کا فیصلہ کر لیا

کلگنی (ویب ڈیسک) یورپی یونین کا رکن ممالک کو پاکستانی پائلٹس کو کام کرنے سے روکنے کا حکم، یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے یورپی یونی کے رکن ممالک کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 40 فیصد لائسنسز کے اجرا میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا، ہوابازی میں ایسی صورتحال باعث تشویش ہے،

پاکستان کی جانب سے جاری لائسنسز پر کام کرنیوالے پائلٹس معطل کردیں۔’ایاسا’ نے رکن ممالک سے پاکستانی پائلٹس کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ دوسری جانب ملائیشیا نے پاکستانی پائلٹس کے لائسنس بحال کرنے کیلئے شرط عائد کر دی ہے۔ ملائیشین سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے پائلٹوں کے لائسنس کی تصدیق ہونے کے بعد ملائیشیا پائلٹوں کو بحال کرے گا۔ملائیشین سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پاکستانی پائلٹوں کو جہاز اڑانے سے روک دیا تھا، ملائیشیا کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پاکستانی پائلٹس کے مشکوک لائسنس کے معاملے میں تمام ہوابازی کے اداروں کو مراسلہ ارسال کر تھا جس میں کہا گیا تھا کہ یہ پابندی عارضی طور پر لگائی گئی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ پاکستانی لائسنس کے حامل پائلٹوں کی معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔ پاکستانی سول ایوی ایشن اتھارٹی کی تصدیق کے بعد ہی ان پائلٹوں کو جہاز اڑانے کی اجازت دی جائے گی۔خیال رہے کہ آج پی آئی اے کے جعلی لائسنس کے حامل 34پائلٹس کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے اور انکے کے لائسنسزمعطل کردیئے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ پائلٹس کے معاملے پر رپورٹ پیش کی گئی تھی۔ پائلٹس کے تمام تر مشکوک لائسنس پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں جاری کیے گئے۔ پی آئی اے کے جعلی لائسنس والے 28 پائلٹس کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔