کرونا وبا میں پرائیویٹ ایلیٹ سکولز نے کمائی کا نیا ذریعہ بنالیا،سکول کے لوگو والے یونیفارم سے میچنگ کے ماسک لازم کردیئے،والدین اور سوشل میڈیا صارفین نے شکایات کے انبار لگادئیے، فیصلے پر شدید تنقید

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)کرونا وائرس کی وباء کی تباہ کاریاں پاکستان میں جاری ہیں ، ایسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے والے مافیاز کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے ۔ کرونا وباء سے بچائو کے نت نئے طریقے استعمال کرکے اپنے کاروبار کو چمکا رہے ہیں ۔ وباء کے پاکستان میں پھیلتے ہی انسانیت کے نام میں چھپے خوفناک چہرے بے نقاب ہوئے ۔ منافع خور مافیاز نے دوائوں سے لے کر ماسک تک ہر چیز میں بلیک میں فروخت کیے گئے ، تاہم اب مافیاز نے کمائی کرنے کا نیا طریقہ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ بڑے شہروں میں ایلیٹ سکولوں

نے طالب علموں کیلئے ہدایات جاری کیں ہیں کہ وہ لوگو والا ماسک پہنیں ، ورنہ بچوں کو اسکول داخل نہیں ہونے دیا جائے گا ، بیکن ہائوس اور لاہور گرامر اسکولز نے بھی بچوں کو لوگو والے ماسک پہننے کیلئے احکامات جاری کیے ہیں ۔والدین کیلئے یہ لازم ہے کہ وہ اسکول کے ہی لوگو والے ماسک پہنا کر بچوں کو اسکول بھیجا جائے اگر والدین ایسا نہیں کریں گے بچوں کے کرونا وائرس کے شکار ہونے کا خدشہ زیادہ ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ ایسا اگراگر ایسا ہوا تو ایک بچے کی اسکول فیس سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔اعلان کے بعد صارفین نے سوشل میڈیا پر فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ ایک صارف نے لکھا ہے کہ جیسے ہوم ورک بغیر لوگو کی نوٹ بک پر قابل قبول نہیں ہے ویسے ہی بچوں کو اسکول کی حدود میں لوگو والے ماسک کے بغیر سانس لینے کی بھی اجازت نہیں ہے۔