اٹک کے قریب ریت کے بجائے اربوں مالیت کا سونا چین بھجوانے کا انکشاف،شہباز شریف اور حمزہ شہباز سے قریبی تعلقات رکھنے والے آفیسر پر مبینہ طور پرملوث ہونے کا الزام

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر ارشد محمود کوعہدے سے ہٹانے کیلئے سفارشات سیکرٹری اسٹبلشمنٹ کو بھجوادی گئی ہیں،ایڈیشنل سیکرٹری ارشد محمود پر چین کی ایک کمپنی سپر ہانگ کے ساتھ ملی بھگت کر کے ریت کے ٹھیکے کی آڑ میں 82من سونا سمگل کرنے کا مبینہ الزام ہے۔چین کی اس کمپنی کواٹک کے قریب دریا سے ریت نکالنے کا ٹھیکہ دس کروڑ روپے میں دیا گیا لیکن یہ کمپنی دن رات کام کرکے ریت کی بجائے سونا نکال کر چین بھجواتی رہی ہے،جبکہ محکمہ معدنیا ت اور متعلقہ ادارے جان بوجھ کر کارروائی کرنے سے گریز کرتے رہے ہیں۔

باخبر ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ (ایکسپینس) ڈاکٹر ارشد محمود کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کی سفارشات پیش کر دی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ سال اٹک میں چینی کمپنی کی طرف سے ریت نکالنے کے معاہدے کی آڑ میں اربوں روپے مالیت کا کئی ٹن سونا نکال چین سمگل کرنے کا انکشاف ہوا تھا، جس پر اس وقت کے ڈی جی مائنز اینڈ منرلز، دیگر چند افسران اور کنٹریکٹر کے خلاف تھانہ اینٹی کرپشن اٹک میں مقدمہ بھی درج کیا گیا۔ جس وقت چینی کمپنی کو یہ ٹھیکہ دیا گیا اس وقت ڈاکٹر ارشد محمود سیکریٹری مائنز اینڈ منرلز پنجاب تھے۔ جن پر الزام ہے کہ انہوں نے علاقے کے سروے اور قانونی اور تکنیکی تقاضے پورے کیئے بغیر چینی کمپنی کو ریت اور پتھر نکالنے کا ٹھیکہ دیا، اور پھر چینی کمپنی اٹک سے آگے بڑھ کر کے پی کے کے علاقے جہانگیرہ سے سونا نکال کر سمگل کرتی رہی۔ بعد ازاں معاملے کی سنگینی کے پیش نظر جے آئی ٹی بھی بنائی گئی تاہم اس کی رپورٹ کو بھی منظر عام پر نہیں آنے دیا گیا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر ارشد محمود شہباز شریف اور حمزہ شہباز سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں اور ان کے دور میں دس سال پنجاب میں اہم ترین پوسٹنگز پر رہے۔ اس کے ساتھ ہی مبینہ طور پر شریف برادران کے بیوروکریسی میں اہم ہرکارے فواد حسن فواد کے شاگرد اعظم وفاقی سیکرٹری کامرس ڈاکٹر اعجاز منیر کی سرپرستی بھی انہیں حاصل ہے۔ اتنے بڑے مالیاتی اسکینڈل میں ملوث افسر کا ایڈیشنل سیکریٹری فنانس (ایکسپینس) جیسی پوسٹ پر تعینات رہنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔