شہری چِلا اُٹھے ! حکومت کا بجلی پر دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ، 300 یونٹس استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو ہلا کر رکھ دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی تیاریاں، حکومت نے بجلی پر دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا، اب سبسڈی تین سو یونٹس سے کم کر کے پچاس یونٹس تک کر دی جائے گی، اور رعایتی نرخوں میں بھی کمی لائے گی۔تفصیلات کے مطابق وزرات خزانہ

نے اپنے ایک اعلامیہ میں واضح کیا ہے کہ 300 یونٹ تک بجلی کی سبسڈی کم کر کے صرف 50یونٹ تک کر دی جائے گی جبکہ 5 کیٹگریز کے رعایتی نرخ محدودکرنے کافیصلہ کیا ہے، مؤقر قومی اخبار ٹی بیون کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے بھی سبسڈی ختم کرنے کا اشارہ دے چکے ہیں، لیکن حکومت کو نیپرا ایکٹ میں ترمیم کیے بغیر اس ضمن میں قانونی رکاوٹوں کاسامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ بھی سامنے آرہا ہے کہ سبسڈی اب احساس پروگرام کے تحت زرعی اراضی ، آزادجموں و کشمیراورسابق فاٹا جیسے علاقوں کو مل سکے گی، جبکہ ابھی اس ضمن میں وفاقی کابینہ کی منظوری اور قانون سازی درکار ہے جو فی الحال نہیں کی جاسکی۔ اخبار کی رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ بجلی کی قیمتوں کے میکینزم میں بھی ایک بڑی تبدیلی پر غور کیا جا رہا ہے کہ تمام صارفین کے لئے 20 ٹیرف کی طرح کم سے کم طے شرح ٹیرف سے ہٹ کر دس بجلی تقسیم کمپنیوں کے اوسط ٹیرف پر جائیں۔اس سے دوسرے تینوں صوبوں میں چوری اور نقصانات میں اضافے سے پنجاب میں مقیم صارفین پر بوجھ میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ 2020-21 ء کی بجٹ دستاویزات کے مطابق وزارت خزانہ نے بجلی سبسڈی والا نظام دوبارہ اپنے زیرانتظام کرلیا ہے جس کے بعد ان دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت نے گرانٹ نمبر 46 کے تحت بجلی کی سبسڈی کے لئے رقم مختص نہیں کی جوتوانائی ڈویژن کے زیر انتظام ہے۔ خیال رہے کہ ملک میں کورونا کے پھیلتے ہی حکومت کی جانب سے عوام کو بجلی کے بلوں میں ریلیف دیا گیا تھا، لیکن اب آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے لئے بجلی 14 فیصد مہنگی اور سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جس سے غریب عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔