بھارت نے بازی جیت لی ۔۔ کورنا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کا اعلان کرد یا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)بھارت نے 15 اگست تک کورونا ویکسین پیش کرنے کا اعلان کرکے سب کو حیرت زدہ کردیا ہے لیکن ماہرین اسے ناقابل عمل قرار دے رہے ہیں اور یہ سوال بھی پوچھا جارہا ہے کہ بھارت کو ویکسین کا اعلان کرنے کی اتنی جلد بازی کیوں ہے؟غیر ملکی خبر رساں ادارے ڈوچے ویلے کی رپورٹ

کے مطابق بھارت کے بہترین سائنس دانوں کی تنظیم انڈین اکیڈمی آف سائنسز نے متنبہ کیا ہے کہ مکمل سائنسی طریقہ کار اور معیار پر عمل کیے بغیر کوئی ویکسین بازار میں پیش کرنا نہ صرف ناقابل عمل ہے بلکہ یہ عوامی صحت کےساتھ کھلواڑ کرنا ہوگا۔دنیا میں اس وقت کورونا ویکسین کی تیاری کے 120 پروگراموں پر دن رات کام چل رہا ہے۔ بھارت میں بھی کئی حکومتی اور نجی ادارے کورونا کے لیے ویکسین تیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں سبقت لے جانے والا ملک یا ادارہ مالا مال ہوجائے گا۔ بھارت میں تاہم جہاں حکومت کے ہر اقدام کے پیچھے کوئی نہ کوئی سیاسی سبب بھی کارفرما ہوتا ہے، کورونا ویکسین بھی اس سے مستشنی نہیں ہے۔بھارت میں کورونا ویکسین کی تیاری نے اس وقت تنازعے کی صورت اختیار کرلی جب طبی سرگرمیوں پر نگاہ رکھنے والے حکومتی ادارے انڈین کاونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے سربراہ نے اعلان کیا کہ کاونسل نے بھارت کی یوم آزادی 15 اگست تک اس ویکسین کو لانچ کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ اس کا نام COVAXIN رکھا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اس ویکسین کے انسانوں پر تجربات کے لیے بارہ اداروں کو منتخب کیا گیاہے اور ان کو ہدایت دی گئی ہے کہ انسانو ں پر تجربات میں تیزی لائیں تاکہ اس ویکسین کو 15 اگست تک لانچ کردیا جائے۔ آئی سی ایم آر کے سربراہ نے اپنے خط میں یہ دھمکی بھی دی تھی کہ جن اداروں نے ایسا نہیں کیا ا ن کے ساتھ ’انتہائی سختی‘ سے نمٹا جائے گا۔جب اس بیان پر مختلف سائنسی اور دیگر حلقوں سے اعتراضات کا سلسلہ شروع ہوا تو آئی سی ایم آر نے ایک دوسرا بیان جاری کرکے کہا کہ 15 اگست کوئی حتمی تاریخ نہیں ہے۔ لیکن تنازعہ اس وقت مزید پیچیدہ ہوگیا جب بھارت کی وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی نے اپنے ایک سابقہ بیان میں سے اس جملے کو حذف کردیا جس میں کہا گیا تھا کہ COVAXIN سمیت کسی بھی ویکسین کو عوامی استعمال کے لیے 2021 سے پہلے پیش کرنا ممکن نہیں ہے۔اس نئی پیش رفت کے بعد حکومت کے خلاف احتجاج اور نکتہ چینی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ حکومت کے ناقدین نے الزام لگایا کہ 15 اگست تک کورونا ویکسین کا اعلان کرنا سیاست کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ لیکن اس سے بھارت کا اعتبار اور وقار بری طرح مجروح ہوگا۔