کشمیری اگر یہ کام کریں گے تو انہیں غدار تسلیم کیا جائےگا۔۔۔ مفتی تقی عثمانی نے فتویٰ جاری کر دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) معروف عالم دین مفتی محمدتقی عثمانی نے فتوی دیاہے کہ مقبوضہ کشمیرکے مسلمانوں کے لیے جائزنہیں کہ وہ اپنی زمینیں کسی ہندوکوفروخت کریں ایساکرنانہ صرف کشمیرکے مسلمانوں کے ساتھ بلکہ پورے عالم اسلام کے ساتھ سنگین غداری کے مترادف ہوگا.پاکستان سمیت تمام مسلمان ملکوں کافرض ہے

کہ وہ کشمیرکے مظلوم ومقہورمسلمانوں کی ہرطرح مددکریں اوربھارت کے ناپاک عزائم کوکامیاب نہ ہونے دیں ایسانہ ہوکہ اسرائیل کے قیام کی مکروہ تاریخ خدانخواستہ اس علاقے میں بھی دہرائی جائے مفتی تقی عثمانی نے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں تفصیلی فتوی جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ قرآن و سنت کے احکام اوران پرمبنی فقہاء کرام کی عبارتیں اس بارے میں بالکل واضح ہیں کہ کفارکے ہاتھوں کوئی بھی ایسی چیزبیچناجسے وہ مسلمانوں کے مفادکے خلاف استعمال کرسکتے ہو ں سراسرناجائزاوربدترین گناہ ہے .انہوں نے مزیدکہاکہ کشمیرشروع سے ایک مسلمان ریاست ہے جوکسی بھی حیثیت سے بھارت کاحصہ نہیں ہے اقوام متحدہ کی قراردادیں اروخود بھارتی آئین کی دفعات 370اور35اے اس بات کوتسلیم کرتی ہیں۔ا ب بھارت نے مقبوضہ کشمیرمیں مسلمانوں پرظلم وجبرکرکے انہیں بدترین کرفیو اورلاک ڈائون کانشانہ بنایااوربھارت کے آئین میں تبدیلی کرکے اسے بھارت کاحصہ بنانے کی کوشش کی ہے اوراب یہ کوشش ہورہی ہیں کہ کشمیرمیں بھارتی ہندوں کواسی طرح لاکرآبادکیاجائے جس طرح صیہونی یہودیوں نے فلسطین کی زمینوں پرقبضہ کرکے مسلمانوں کووہاں س جلاوطن کیااوراسرائیل کی ناجائزریاست قائم کرلی .بھارتی حکومت ریاست کشمیرکی وہ حیثیت ختم کرنے کے درپے ہے جوکہ وہاں کے مسلمان باشندوں کاپیدائشی حق ہے اورنہ صرف عالمی طورپرمسلم ہے بلکہ بھارت کااصل دستوراس کی گواہی دیتاہے اسی غرض سے اس نے بھارتی ہندووں کووہاں بسانے کاقانون پاس کیاہے مسلمانوںکافرض ہے کہ وہ اس ناپاک اقدام کوہرطرح روکیں اورکوئی مسلمان کسی باہرکے ہندووں کواپنی جائیدادبیچنے کاسخت گناہ اپنے سرنہ لے۔ مسلمان کسی باہرکے ہندووں کواپنی جائیدادبیچنے کاسخت گناہ اپنے سرنہ لے۔