کورونا وائرس دراصل کیا بلا ہے ، جو آپ بتا رہے تھے سب غلط تھا ۔۔۔۔ 12 ممالک کے سائنسندانوں نے دنگ کر ڈالنے والے راز سے پردہ اٹھا دیا ، عالمی ادارہ صحت بھی ہکا بکا رہ گیا

لندن (ویب ڈیسک) کورونا وائرس کے بارے میں اب تک سب یہی سمجھ رہے تھے کہ یہ وائرس کھانسنے یا چھیکنے یا زور سے بولنے سے مریض سے منہ یا ناک سے خارج ہونے والے باریک محلول ذرات سے یہ وائرس دوسرے شخص کو منتقل ہو جاتا ہے ، مگر بتایا جا رہا ہے کہ

یہ نظریہ غلط تھا اب بارہ ملکوں کے ڈھائی سو کے قریب سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ وائرس ہوا کے ذریعے انفیکشن پھیلاتا ہے اور بند جگہوں پر بھی اس سے بچنے کے لیے احتیاط کرنی چاہیے۔نیویارک ٹائمز کے مطابق بارہ ملکوں کے 239 سائنس دانوں نے عالمی ادارہ صحت کے نام ایک کھلے خط میں کہا ہے کہ وہ کورونا وائرس سے بچنے کے لیے اپنی ہدایات پر نظر ثانی کرے۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس ہوا سے پھیلتا ہے، یعنی وائرس کے ذرات بند جگہوں میں گردش کرتے ہیں اور سانس لیتے ہوئے یہ ذرات انسانی جسم کے اندر جا سکتے ہیں۔دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق برطانیہ کے ممتاز سائنسدانوں نے کہا ہے کہ اب جبکہ لاک ڈائون میں نرمی کردی گئی ہے اور معمول کی زندگی بحال ہورہی ہے، لیکن اس کے باوجود نسلی اقلیتوں کے افرادکوکوویڈ19سے جان بچانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس بات کا اظہار انڈی پینڈنٹ ایس اے جی ای گروپ میں شامل سائنسدانوں نے کیا۔ گروپ میں حکومت کے سابق سائنسی مشیر اور ممتاز سائنٹسٹ شامل ہیں۔ یہ گروپ حکومت کے سائنٹیفک ایڈوائزری گروپ آف ایمبرجنسیز کے شیڈو کے طور پر بنایا گیا تھا۔ گروپ نے11سفارشات تیار کرکے ڈائوننگ اسٹریٹ کردی ہیں اور ان پر فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ گروپ کے مطابق پیچیدہ معاشرتی اور معاشی مسائل، مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونا اور طویل عرصہ سے موجود نسلی عدم مساوات کے سبب سیاہ فام اور ایشیا کی کمیونٹیز کے افراد کا مقامی آبادی کی نسبت کوویڈ19سے جان بحق ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور ایسے وقت میں جبکہ لاک ڈائون میں مزید نرمی کردی گئی ہے اور دوسری لہر آنے کی صورت میں اقلیتوں کے لیے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔ گروپ کی8سفارشات ’’شارٹ ٹرم‘‘ نوعیت کی ہیں جن پر فوری عملدر آمد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اکیس پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی سفارشات بھی شامل ہیں جوکہ مئی کے آخر میں حکومت کے حوالے کردی گئی تھیں، لیکن ان پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوا ہے۔ لیسٹر میں لگنے والے لوکل لاک ڈائون کو مدنظر رکھ کر انڈی پینڈنٹ گروپ نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے افراد جو ایسے گھروں میں مقیم ہیں جہاں رہائشیوں کی تعداد زیادہ ہے اور مختلف نسل کے لوگ ساتھ رہ رہے ہیں، وہاں پر کسی شخص میں علامات ظاہر ہونے کی صورت میں اسے عارض طور پر علیحدہ رہائش گاہ فراہم کی جائے۔