معید پیرزادہ نے ن لیگ کا دوغلا پن ایکسپوز کردیا

لاہور(ویب ڈیسک)معید پیرزادہ کا اپنے وی لاگ میں کہنا تھا کہ ن لیگ اسلام آباد میں ہندو مندر کی تعمیر پر قرارداد لے کر آگئی ہے لیکن ہمیں حقائق دیکھنا ہوں گے، اس زمین کی الاٹمنٹ کی منظوری 2016 میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے دی تھی، اس وقت انصر شیخ سی ڈی اے کے چئیرمین تھے۔

معید پیرزادہ کے مطابق نوازشریف نے یہ زمین ہندو پنجایت کو سرکاری ریٹ پر نہیں دی بلکہ ایک طرح سے گفٹ کی۔ اس وقت سرکاری ریٹ کے مطابق زمین کی قیمت 40 ہزار روپیہ فی گز تھی۔اس لحاظ سے اس زمین کی قیمت 8 کروڑ روپے بنتی تھی۔ نوازشریف نے بہت مثبت قدم اٹھایا تھا کہ انہوں نے مندر کیلئے یہ زمین گفٹ کے طور پر دی۔ اگر ن لیگ کی یہ سپرٹ تھی تو پھر انہیں پنجاب کے اندر حکومت کے خلاف قرارداد لانے کی کیا ضرورت تھی؟ زمین گفٹ کرنیوالی جماعت نے یہ اعتراض کیوں اٹھایا کہ عمران خان نے 10 کروڑ کی گرانٹ دی ہے اسے روکا جائے۔یہ تو ایک کھلم کھلا تضاد ہے۔ اس سے منافقت کی بو آتی ہے۔ ن لیگ کا جو ووٹ اور سپورٹ بیس ہے اس میں تو جاہلوں کی فوج بھری ہوئی ہے۔ اس میں تو جاہل ہی جاہل ہیں لیکن انکی قیادت میں پڑھی لکھی شخصیات پائی جاتی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ن لیگ یہ احمقانہ قرارداد واپس لے لی۔معید پیرزادہ کا کہنا تھا کہ جب ایک مخصوص مذہبی طبقے کی طرف سے وزیراعظم پر تنقید شروع ہوئی تو وزیراعظم نے یہ معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیج دیا کہ کیا ریاست ہندو مندر کیلئے گرانٹ دی جاسکتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح کے قدم سے ریاست کمزور ہوتی ہے۔