’’میں ہندو تھی، میرا نام سروج کشن چند سادھو سنگھ ناگپال تھا۔‘‘ کچھ روز قبل دنیا سے رخصت ہونیوالی معروف بھارتی کوریوگرافر ’’سروج خان‘‘ نے اسلام کیوں قبول کیا تھا؟ مادرِ رقص کی پُرانی ویڈیو وائرل

ممبئی (ویب ڈیسک) کچھ روز قبل دنیا سے رخصت ہونیوالی بھارتی کوریو گرافر سروج خان نے اسلام کیوں قبول کیا تھا؟ سروج خان کی پرانی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ چند روز قبل دل کے دورہ کے باعث انتقال کرجانیوالی بھارتی کاریوگرافر سروج خان کا ایک انٹرویو سوشل میڈیا پر وائرل

ہے جس میں وہ بتارہی ہیں کہ انہوں نے اسلام کیوں قبول کیا؟ سروج خان نے انٹرویو میں بتایا کہ وہ پہلے ہندو تھی انکا نام سروج کشن چند تھا، ایک رات انہوں نے خواب میں اپنی ایک مرحومہ بیٹی کو مسجد میں دیکھا جو خواب میں سروج خان کو بھی مسجد میں داخل ہونے کا کہتی اور مسلسل اپنے پاس بُلا رہی تھیں۔ سروج خان کے مطابق یہ خواب ان کا پیچھا نہیں چھوڑ رہا تھا اور یہی خواب اُن کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی وجہ بھی بنا۔ سروج خان نے انٹرویو میں بتایا کہ وہ ہندو تھی، انکا نام سروج کشن چند سادھو سنگھ ناگپال تھا اور ہم سندھی پنجابی ہیں۔ میں 1966 اپنے سردار روشن خان سے ملی اور اُن سے محبت ہوگئی اور ان سے شادی کرلی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے صرف محبت کی وجہ سے اپنا مذہب تبدیل نہیں کیا بلکہ میں اسلام واقعی اسلام سے محبت کرتی ہوں۔ اسلام قبول کرنے کے حوالے انہوں نے بتایا تھا کہ مسلمان ہونے کا ارادہ کرنے کے بعد میں خود ممبئی کی سب سے بڑی جامع مسجد گئی اور اسلام قبول کرلیا۔ 1966 میں سروج خان کی زندگی میں سردار روشن خان آئے، جن سے ازدواجی تعلق ان کے مرتے دم تک قائم رہا۔ سردار روشن خان کی شریک سفر بننے کے لیے سروج نے اسلام قبول کیا اور فلموں میں سروج خان کے نام سے کاریوگرافی کرنے لگیں۔ سروج خان نے بتایا کہ ’مجھ سے مسجد میں پوچھا گیا کہ کوئی آپ کے ساتھ مذہب تبدیل کرنے کیلئے زبردستی تو نہیں کررہا جس پر میں نے کہا کہ نہیں کسی نے زبردستی نہیں کی یہ میرا اپنا فیصلہ ہے کیونکہ میرا دل اسلام پر آیا ہے۔‘