ملک کی عز ت داؤ پر لگانے والے جعلی ڈگری کے والے پائلٹوں کے ساتھ کیا عبرتناک سلوک کیا جائے گا؟حکومت کی جانب سے دبنگ اعلان کر دیا گیا

راولپنڈی(ویب ڈیسک ) پی آئی میں کرپشن اور جعلی پائیلٹوں کی بھرتیوں کا معاملہ ، تحقیقات کے بعد جعلی ڈگری واے پائیلٹوں کے نام سامنے آئے تو پورے ملک میں کھلبلی مچ گئی ، ان کرپٹ لوگوں کے لیے راہ ہموار کس نے کی اور اب ان کا کیا حشر کیا جائے گا

جو لوگ سینکڑوں لوگوں کی موت کا سبب بنے اور اب پی آئی اے اور پاکستان کی بدنامی کی وجہ بن چکے ہیں اس معاملے میں وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ جعلی ڈگری والے پائلٹ کو برطرف کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت ان کے خلاف فوجداری مقدمات بھی درج کرے گی، پی آئی اے طیارہ حادثے میں جب تک غلطی کا احساس نہیں ہوگا تو اصلاح کیسے ہوگی؟ پی آئی اے جعلی ڈگری کا معاملہ سپریم کورٹ کے اَز خود نوٹس سے اُس وقت شروع ہوا جب ہماری حکومت نہیں تھی، 336 افراد کی ڈگریاں جعلی نکلیں جن میں پائلٹ،کیبن کریو، انجینئر،گراونڈ لوگ بھی شامل ہیں۔ راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نےکہا کہ یہ افراد داد رسی کے لیے سپریم کورٹ گئے جہاں سے ان کی اپیلیں مسترد ہوگئیں،فروری 2019 میں پائلٹ کی ڈگریوں کی چیکنگ کے لئے بورڈ بنا دیا تھا، 850 سے 262 پائلٹ کی ڈگریاں چیکنگ میں جعلی نکلیں، 28 پائلٹ کو شوکاز دیا گیا اور 9 پائلٹوں نے اعتراف جرم کیا، مزید 30 پائلٹوں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں، وفاقی کابینہ نے ہر پائلٹ کا الگ الگ کیس پیش کرنے کی ہدایت کی ہے، اس بابت مفصل سمری تیار کر رہے ہیں لام سرور خان کا کہنا تھا کہ جو پائلٹ اندرون ملک کام کر رہے تھے انہیں گراؤنڈ کر دیا گیا ہے، جعلی ڈگری والے پائلٹ برطرف ہوں گے اور فوجداری مقدمات بھی بنیں گے، 2018 کے بعد ہم نے پی آئی اے میں کوئی بھرتی نہیں کی ہم سابقہ حکومتوں کا گند صاف کر رہے ہیں۔غلام سرور خان نے کہا کہ ملک میں دیگر فضائی حادثات ایئر بلیو، بھوجا ایئر لائن، گلگت بلتستان حادثہ اور ہری پور حادثہ کی رپورٹ بھی پارلیمنٹ میں پیش کریں گے، پی آئی اے کا ریگولر آپریشن عارضی طور پر معطل ہے اور پی آئی اے اپیل میں جارہی ہے، اداروں کو غیر سیاسی بنا رہے ہیں کیونکہ سیاسی بھرتیوں اور ترقیوں سے ادارے تباہ کئے گئے، جب سے جمہوریت بحال ہوئی تمام ادارے تباہ ہونا شروع ہوگئے۔