’’امریکا اور یورپ میں مذہبی عبادت گاہ کی تعمیر کیلئے ریاست کا بجٹ استعمال نہیں ہوتا۔ ‘‘ اوریا مقبول جان مندر کی تعمیر کروانے پر حکومت پر برس پڑے، ساری بھڑاس نکال دی

لاہور (ویب ڈیسک) سابق وفاقی وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں مندر کی تعمیرسے لگ رہا ہے کہ ہماری حکومت ان کی خوشامد میں لگی ہوئی ہے جنہوں نے بابر ی مسجد کو شہید کیا ۔مجھے سرکاری فنڈز سے اسلام آباد میں مندر تعمیر کرنے کی منطق نظر نہیں آرہی ہے

تجزیہ کار ارشاد احمد عارف نے کہا کہ میں پرویز الٰہی سے اتفاق کرتاہوں کہ اقلیتوں کے حقوق ان کی عبادت گاہوں کا تحفظ ہونا چاہئے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اکثریت کے جذبات مجروح کرکے اقلیتوں کو خوش کرنے کی کوشش کریں ،اسلام آباد میں سید پور میں مندر موجود ہے اس کو توسیع دی جائے امریکہ،یورپ اوربھارت اس سے خوش نہیں ہوں گے ۔ عمران خان اوران کی ٹیم نے کوئی ہوم ورک نہیں کیا ،لوڈ شیڈنگ سے مسائل پیدا ہورہے ۔تجزیہ کار اوریا مقبول جان نے کہا ہے کہ امریکہ، فرانس، برطانیہ اوردیگرممالک میں کوئی ایک مسجد کی تعمیر کیلئے کسی بھی حکومت نے فنڈز نہیں دیئے وہاں کی کمیونٹی چندہ اکٹھا کرکے بناتی ہے ۔تحریک انصا ف کے رکن قومی اسمبلی آفتاب جہانگیر نے کہا ہے کہ کراچی کے عوام لوڈ شیڈنگ کے با عث عذاب میں مبتلاہیں،شہریوں کیلئے آسانیاں پیدا کرنا ہماری ذمہ داری ہے لیکن اس میں ہم ناکام ہوتے نظر آرہے ہیں۔وزیر توانائی سندھ اورپیپلزپارٹی کے رہنما امتیاز شیخ نے کہاہے کہ حالیہ لوڈ شیڈنگ وفاقی حکومت کی مس مینجمنٹ ہے ۔ حامد سعید کاظمی نے کہا سرکاری فنڈز سے مندر کی تعمیر کی سمجھ نہیں آتی۔ دوسری جانب وزیراعظم کی ٹیم نے ہوم ورک نہیں کیا، مندر تعمیر سے کوئی خوش نہیں ہوگا۔