“آپ زیادتی کر رہے ہیں ” یہ جملہ کس طرح بھٹو اور ضیاالحق کے درمیان اختلافات کی بنیاد بنا ؟ برسوں بعد ایک فون کال کی تفصیلات سامنے آگئیں

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی و کالم نگار رؤف طاہر نے جنرل (ر) چشتی کے ساتھ اپنے انٹرویو کے چند اقتباسات پیش کیے ہیں ، جن میں بہت اہم حقائق سامنے آئے ہیں ، قارئین کی دلچسپی لیے یہاں کالم کا یہ حصہ من و عن پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔۔۔

سوال: تو پھر بھٹو کے جنرل ضیاء کے ساتھ تعلقات کب خراب ہوئے؟جنرل چشتی: 15جولائی کی ملاقات میں ہم نے ان سے کہا کہ ہم سب کو چھوڑنے والے ہیں‘ آپ جائیں اور اپنی سرگرمیاں شروع کریں۔ اگلے روز میں نے خود بھٹو صاحب کو چکلالہ ایئر پورٹ پر لاڑکانہ کے لیے روانہ کیا۔ شاید یہ 18 اگست تھا جب ضیاء الحق کے ساتھ پنڈی میں ان کی دوسری ملاقات ہوئی۔ مجھے بھی ضیاء نے بلا لیا۔ بھٹو نے شکایت کی کہ اخبار والے میری کردار کشی کررہے ہیں‘ انہیں روکیں۔ ضیاء نے کہا، ”یہ ہمارا کام نہیں، پریس فری ہے، وہ غلط لکھ رہے ہیں تو آپ ان پر مقدمہ کردیں‘‘ پھر بھٹو صاحب نے پولیٹیکل کیمپین شروع کی۔ میرا خیال ہے، یہ ملتان کی بات ہے‘ جب انہوں نے کہا کہ میں جرنیلوں کو لٹکا دوں گا۔ اس دن ہم مری جا رہے تھے۔ چیف آف آرمی سٹاف ہائوس پہنچ کر میں نے اجازت چاہی کہ میں میس میں ٹھہروں گا۔ ضیاء الحق نے چائے کے لیے کہا۔ میں لان میں بیٹھ گیا۔ برآمدہ آٹھ دس قدم کے فاصلے پر تھا۔ فون کی گھنٹی بجی۔ ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر ظفر نے آ کر بتایاSir, The prime minister wants to talk to youسوال: برطرفی کے بعد بھی بھٹو صاحب کو پرائم منسٹر کہا گیا؟جواب: جی‘ تو ضیاء الحق فون سننے چلے گئے۔ بھٹو کیا کہہ رہے تھے، یہ میں نہیں سن سکتا تھا؛ البتہ ضیاء الحق کی آواز مجھ تک پہنچ رہی تھی۔ وہ کہہ رہے تھے: نہیں نہیں سر! ایسا نہیں ہو سکتا… آپ زیادتی کر رہے ہیں‘ میں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔ ضیاء الحق کے یہ الفاظ بھی میں نے سنے کہ موقع ملے گا تو آپ یہ کریں گے ناں! لیکن میں یہ موقع نہیں آنے دوں گا۔ گویا کچھ ایسی باتیں ہوئیں کہ ضیاء الحق annoy ہو گئے۔ بھٹو نے کوئی ایسی بات کی جو انہیں ناگوار گزری۔ میرے خیال میں یہی وقت تھا جب The Things Changed۔ اس کے بعد ضیاء الحق ایک مختلف آدمی تھے‘ A Different Man۔(ش س م)