ہزاروں غیر قانونی کنکشن کے ذریعے بڑے پیمانے پر بجلی چوری کا انکشاف، اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے قومی خزانے کو بھاری نقصان

راولپنڈی (آن لائن)آئیسکو سب ڈویژن صادق آبادمیں اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے ہزاروں غیر قانونی کنکشن کے ذریعے بڑے پیمانے پر بجلی چوری کا انکشاف ہوا ہے متعلقہ حکام نے بجلی چوروں کے خلاف کاروائی کی بجائے لائن لاسز پورے کرنے کے لئے بجلی کی غیر اعلانیہ طویل لوڈ شیڈنگ شروع کر دی جس سے شدید گرمی اورحبس میں لاکھوں صارفین اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہو گئے حکومتی پالیسی کے برعکس یومیہ بنیادوں پر بجلی کی6سے8گھنٹے بندش کے خلاف شہریوں نے صادق آباد سب ڈویژن کے گھیرائو اور اسلام آباد ایکسپریس وے کو بلاک کرنے کی دھمکی دے دی

اہلیان علاقہ کے مطابق 7سے زائد یونین کونسلوں پر محیط صادق آبادکے لاکھوں صارفین کو محمد دین شہیداورخرم کالونی فیڈر سمیت مختلف فیڈرز سے بجلی فراہم کی جاتی ہے لیکن سب ڈویژن کے علاقوں میں کری روڈ کے اطراف اور ہائی وے کے ساتھ اندرونی رہائشی علاقوں میں ڈومیسٹک میٹروں اور کنکشن سے لکڑے و لوہے اور سٹیل فرنیچر کے علاوہ ویلڈنگ کی دکانوں میں بجلی کا کمرشل استعمال کیا جاتا ہے جبکہ گھریلو سطح پر بجلی چوری اس کے علاوہ ہے شہریوں نے الزام عائد کیا کہ واپڈا اور آئیسکو کا عملہ ان غیر قانونی صارفین سے ماہانہ حصہ وصول کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ موسم سرما (آف سیزن )کے دوران 4ماہ سے زائد عرصہ تک روزانہ صبح 8بجے سے 2بجے تک اور کبھی4بجے تک کنسٹرکشن اور مینٹی نینس کے نام پر بجلی بند کی جاتی رہی جسے شہری صرف اس بنا پر برداشت کرتے رہے کہ انہیں موسم گرما میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی کی سہولت میسر آئے گی لیکن عید الفطر کے بعد سے علاقے میں یومیہ بنیادوں پر 6سے 8اور بعض اوقات 10گھنٹے تک بجلی کی بندش معمول بن چکا ہے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر جب بھی متعلقہ ایکسئین اور ایس ڈی او یا شکایات دفتر سے رابطہ کیا جاتا ہے تو جواب ملتا ہے کہ علاقے میں نئے فیڈر نصب ہو رہے ہیں اسی طرح کبھی مینٹی نینس اور کبھی کنسٹرکشن ورک کا بہانہ بنایا جاتا ہے اور کبھی فیڈر میں خرابی کا جواب دے کر کئی کئی گھنٹے بجلی بند کر دی جاتی ہے جس کے لئے جب بھی متعلقہ ایس ڈی او اور ایکسئین کے علاوہ سب ڈویژن کے عملہ سے کنسٹرکشن اور مینٹی نینس کے شیڈول کی فراہمی بارے استفسار کیا جاتا ہے تولیت و لعل سے کام لیتے ہوئے صارفین کو ٹرخا جاتے ہیں اہلیان علاقہ کے مطابق ملک میں جاری کورونا وبا کے باعث تعلیمی اداروں کی بندش کے دوران ملک بھر کی طرح راولپنڈی اور صادق آباد میں بھی آن لائن کلاسوں کا اجرا ہو رہا ہے لیکن بجلی کی عدم فراہمی کے باعث طلبا و طالبات کے لئے تعلیم کا حصول مشکل ہو چکا ہے شہریوں کے مطابق یکم جولائی کو آئیسکو چیف کی ٹیلی فونک کھلی کچہری میں شکایات کے لئے مسلسل رابطے کے باوجود مقررہ وقت میں نمبر مصروف رہا دن اور رات کے مختلف اوقات میں کئی کئی گھنٹے بجلی کی بندش سے روز مرہ کے معمولات تباہ ہو کر رہ گئے ہیں اہلیان صادق آباد نے وفاقی وزیر پانی و بجلی اورچیف ایگزیکٹو آئیسکوسے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس علاقے کا از خود دورہ کر کے غیر قانونی کنکشنز کا جائزہ لیں اور علاقے میں کھلی کچہری لگا کر عوام کے مسائل سنیں شہریوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ سب ڈویژن کے ایکسئین اور ایس ڈی او کو فی الفور تبدیل کیا جائے بصورت دیگر عوام بڑے احتجاج پر مجبور ہوں گے۔