عمران خان خوش قسمت کہ انہیں ابھی کوئی خطرہ نہیں مگر عمران خان بدقسمت ہیں کہ وہ ۔۔۔۔۔۔ حامد میر نے اپنے کالم میں پتے کی بات کہہ ڈالی

لاہور (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ اگر مائنس ون ہو بھی گیا تو تمہاری جان نہیں چھوٹے گی۔ دوسرے الفاظ میں انہوں نے اپوزیشن سے کہا کہ تم لوگوں پر مقدمے میں نے نہیں کسی اور نے بنائے ہیں اور اگلے ہی لمحے یہ بھی کہہ دیا کہ

مشرف کی حکومت بہت اچھی تھی لیکن اس کا این آر او بہت بُرا تھا۔صف اول کے کالم نگار حامد میر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔عمران خان این آر او کا ذکر تو بہت کرتے ہیں لیکن انہیں کوئی یہ یاد نہیں دلاتا کہ جب 5اکتوبر 2007کو این آر او جاری ہوا تو اس کےتحت 1986سے 1999کے درمیان صرف کرپشن کے مقدمات ختم نہیں ہوئے تھے بلکہ اور مقدمات بھی ختم کئے گئے۔اس این آر او سے محترمہ بےنظیر بھٹو اور آصف علی زرداری سے زیادہ فائدہ تو الطاف حسین نے اٹھایا جن پر 72مقدمات ختم ہوئے فاروق ستار پر 23مقدمات ختم ہوئے ۔ اس کے علاوہ وسیم اختر، شعیب بخاری، عشرت العباد، بابر غوری اور کنور خالد یونس سمیت ایم کیو ایم کے تین ہزار سے زائد کارکنوں کو فائدہ ہوا۔ ان فائدہ اٹھانے والوں کی بڑی اکثریت آج عمران خان کی اتحادی ہے۔این آر او سے آٹھ ہزار سے زائد سیاست دانوں اور بیوروکریٹس نے فائدہ اٹھایا جن میں ایف بی آر کے درجنوں افسران شامل تھے لیکن ان کا کوئی ذکر نہیں کرتا اور یہ ذکر بھی نہیں ہوتا کہ جس عدلیہ کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے مل کر بحال کیا اس عدلیہ کے 17ججوں نے سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر ایک میں 16دسمبر 2009کو یہ این آر او منسوخ کر دیا تھا۔لہٰذا یہ کریڈٹ آزاد عدلیہ کا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے جاری کردہ این آر او کو آزاد عدلیہ نے منسوخ کیا اور اسی مشرف پر آئین سے غداری کا مقدمہ بھی دائر کرایا اور اس مقدمے کے فیصلے کو عمران خان کی ’’نظریاتی حکومت‘‘ تسلیم ہی نہیں کرتی۔عمران خان کی حکومت پرویز مشرف، آصف زرداری اور نواز شریف کے پرانے ساتھیوں کے سہارے ریاستِ مدینہ بنانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ عمران خان بہت خوش قسمت ہیں۔ انہیں آج کی اپوزیشن سے فی الحال کوئی خطرہ نہیں لیکن عمران خان بہت بدقسمت بھی ہیں۔ انہیں اپوزیشن کے بجائے اپنوں سے زیادہ خطرہ ہے۔ان کے وزراء صرف حکومت نہیں بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں اور ایک وزیر صاحب نے تو آدھی دنیا میں پی آئی اے پر پابندی لگوا دی ہے۔ اس قسم کے وزراء پاکستانی عوام کی بدقسمتی نہیں تو پھر کیا ہیں؟