’’پیپلزپارٹی اُلٹی لٹک جائے یا مجھے لٹکا دے تو بھی اُنکی کرپشن پر بات کرنے سے باز نہیں آؤں گا۔‘‘ اینکر پرسن عمران خان نے ایسی کھری کھری باتیں سُنا دیں کہ ’’پلوشہ خان‘‘ پروگرام سے بھاگ نکلیں

کراچی (ویب ڈیسک) پیپلزپارٹی اُلٹی لٹک جائے یا مجھے لٹکا دے تو بھی اُنکی کرپشن پر بات کرنے سے باز نہیں آؤں گا۔ اینکر پرسن عمران خان نے ایسی کھری کھری باتیں سُنا دیں کہ پی پی پی رہنما پلوشہ خان پروگرام سے بھاگ نکلیں۔ پاکستان کے معروف اینکر پرسن عمران خان نے لائیو پروگرام میں کہا کہ

پیپلز پارٹی اگر اُلٹی بھی لٹک جائے یا مجھے اُلٹا لٹکا دیا جائے تو بھی انکی کرپشن پر بات کرنے سے باز نہیں آؤں گا۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی نیوز چینل پر اینکر پرسن عمران خان کے پروگرام میں پیپلز پارٹی کی رہنما پلوشہ خان خصوصی مہمان کی حیثیت سے آئیں تھی، جس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فیصلہ آپ نے تو نہیں کرنا آپ تو بیٹھ کر وکالت کر رہے ہیں۔ اس پر جواب دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام کی وکالت میں تو کروں کا۔ سندھ کے عوام کی وکالت سے نہ بلاول ، نہ زندہ بھٹو روک سکتا ہے۔ آپ مجھے نہیں روک سکتے۔ سندھ کی عوام پر ظلم کریں گے، گولیاں ماریں گے۔ صحافی کو قتل کردیں گے، پھر ثبوت بھی سامنے نہیں آنے دیں گے تو میں تو آواز ضرور اٹھا ؤں گا۔ اینکر عمران خان نے کہا سندھ کے ہسپتالوں کی حالت دیکھ لیں، ان پر بات کروں گا، تھر میں بچے روز مر رہے ہیں، کورونا ان سے کنٹرول نہیں ہورہا۔ جس پر پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ دوسرے مہمان سے بات کریں، میرے سر میں درد ہے، مجھے اجازت دیں، جس پر عمران خان نے بولا یہ آپکا کا حق ہے، آپ چڑھائی کریں گی میرے اوپر اور میں چڑگائی کرنے دوں گا ایسا ہرگز نہیں نہیں ہوسکتا۔ سیاسی بات آپس میں کریں مجھے صرف جواب دیں۔ پلوشہ خان نے بات کی تو عمران خان نےکہا کہ آپ اپنا پوائنٹ آف ویو دیں، پلوشہ یہ بدمعاشی نہیں چلے گی، آپ نے موقف دینا ہے تو دیں ورنہ ماےئیک اتار کر جائیں، بدتمیزی نہیں کرنے دوں ‌گا، جو صحافی آپ کی بد تمیزی سنتے ہیں ان سے جا کر بد تمیزی کریں۔ اینکر عمران خان کا کہنا تھا کہ کل میں نے توشہ خان کیس پر بات کی تھی، آپ لوگوں نے میسجز کئے اور کہا کہ کرپشن پر بات نہ کریں ، الٹا بھی لٹک جائیں گے آپ لوگ پھر بھی میں بات کرنے سے باز نہیں آؤں گا۔ نجی ٹی وی کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے، ٹی وی کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے یہ ویڈیو ایک بار پوسٹ کی گئی بعد ازاں اسکو ڈیلیٹ کر دیا گیا تا ہم یہ ویڈیو وائرل ہو چکی ہے۔