یہ تو قصہ ہی اور نکلا : اسلام آباد میں مندر کے لیے پلاٹ عمران حکومت نے نہیں بلکہ کس نے دیا ؟ اصل حقائق سامنے آگئے

کراچی (ویب ڈیسک)وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں مندر کیلئے پلاٹ ہم نے نہیں بلکہ (ن )لیگ کے دور حکومت میں دیا گیا تھا، ہمارا آئین اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کی یقین دہانی کرواتا ہے، اپوزیشن کو اسپیکر پسند نہیں تو تحریک عدم اعتماد لانا

اس کا آئینی حق ہے، ن لیگ کے ایک بہت بڑے لیڈر نے پیغام بھیجا ہے میری جان خلاصی کروادیں پارٹی میں گروپ بنادوں گا لیکن عمران خان اپنی ضد کا پکا اور سودے بازی کرنے والوں میں سے نہیں وہ اپنا نقصان کروا لے گا مگر کسی کو چھوڑے گا نہیں ۔عمران خان کو مائنس ون کیا گیا تو غیرجمہوری کام ہوگا، اور جمہوریت کو سخت نقصان ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کیخلاف مقدمہ بنا تو انہیں بھی واپس لائیں گے۔ محمد مالک نے کہا کہ چوہدری پرویز الٰہی کا اسلام آباد میں مندر بننے کے خلاف بیان سمجھ سے باہر ہے، اسلامی ملک میں مندر بننا کیسے اسلام کی روح کے خلاف ہوسکتاہے ، کابینہ ارکان کے اثاثوں اور غیرملکی شہریت سے متعلق تفصیل پبلک ہونی چاہئے۔سہیل وڑائچ نے کہا کہ ق لیگ نے اپنی شناخت میں دائیں بازو اور مذہب کو نمایاں کرلیا ہے، پاکستان میں عموماً لیڈر کا متبادل پارٹی میں نہیں ہوتا لیکن جب تقدیر کا پہیہ گھومتا ہے تو متبادل بھی مل جاتے ہیں۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی رابطہ شہباز گل نے کہا کہ اسلام آباد میں مندر کیلئے پلاٹ ن لیگ کی حکومت میں دیا گیا تھا، ہمارا آئین بھی اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کی یقین دہانی کرواتا ہے، اسپیکر قومی اسمبلی سے پی ٹی آئی کے بھی کئی لوگ خوش نہیں ہوتے۔اسد قیصر کی کوشش ہوتی ہے کہ سب کو ساتھ لے کر ایوان کو چلائیں۔ شہباز گل کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے ایوان میں اپنے وقت سے کہیں زیادہ وقت حاصل کیا۔