اسلحے کے بغیر ل ڑنے کے عادی : بھارت اور چین کی فوجوں میں سے اس معاملے میں کون آگے ہے ؟ کس کی کیا خصوصیات ہیں ؟ جانیے

لندن (ویب ڈیسک) بی بی سی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب وادی گلوان میں انڈیا اور چین کے آمنے سامنے ہونے کے بعد سے دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے چند روز قبل یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ چین اپنی افواج کی تربیت کے لیے تقریباً 20 مارشل آرٹ ٹرینرز تبت بھیج رہا ہے

یہ ٹرینر چینی فوجیوں کو مارشل آرٹس کی تربیت دیں گے۔ تاہم میڈیا رپورٹس سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ کیا یہ ٹرینرز انڈین سرحد کے ساتھ تعینات چینی فوجیوں کو تربیت دیں گے یا نہیں۔چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے کہا تھا کہ ’اینبو فائٹ کلب‘ کے 20 جنگجو تبت کے دارالحکومت لہاسا میں تعینات کیے جا رہے ہیں۔ادھر اس چینی اعلان کے بعد انڈیا میں یہ بحث ہو رہی ہے کہ کیا انڈین فوجیوں نے مارشل آرٹ ٹرینڈ چینی فوجیوں سے ل ڑنے کی تربیت حاصل کر رکھی ہے؟ماہرین کا خیال ہے کہ انڈین فوج میں ایسے جوان موجود ہیں جن کو بغیر ہتھیاروں کے ل ڑنے کی تربیت حاصل ہے اور وہ مارشل آرٹس کے شعبوں میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔فوجیوں کی اس کمپنی کو ‘گھاتک پلاٹون’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ شنکر پرساد نے بی بی سی کو بتایا ‘یہ ان لوگوں کی پلٹن ہے جو اپنی یونٹ کے سب سے مضبوط جوان سمجھے جاتے ہیں۔ ان لوگوں کو جوڈو، کراٹے، کِک باکسنگ اور مارشل آرٹس جیسی تکنیک سکھائی جاتی ہیں۔‘فوج کے ایک ریٹائرڈ سینیئر افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ‘یہ ایک غلط فہمی ہے کہ یہ فوجی صرف ہت ھیاروں کے بغیر ہونے والی لڑائی میں ہی حصہ لیتے ہیں۔ ان کے پاس دوسرے فوجیوں کی طرح ہت ھیاروں کی تربیت بھی ہے۔ بغیر ہت ھیار کے لڑائی ان کی ایک اضافی صلاحیت ہے۔ ‘ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے فوجی ہر انفینٹری یونٹ کے ساتھ موجود ہوتے ہیں