پاکستان میں پن بجلی کی پیداوار کے حوالے سے تاریخی سال، گزشتہ سال کی نسبت کتنی زیادہ پیداوار ہوئی؟ انتہائی مثبت پیشرفت

لاہور( این این آئی)مالی سال 20-2019 پاکستان میں پن بجلی کی پیداوار کے حوالے سے تاریخی سال ثابت ہوا۔مذکورہ مالی سال میں واپڈا نے نیشنل گرڈ کو 37 ارب 40کروڑ یونٹ پن بجلی مہیا کی، جو کسی بھی مالی سال کے دوران پن بجلی کی سب سے زیادہ پیداوار ہے۔قبل ازیں مالی سال 2015-16 میں پن بجلی کی ریکارڈ 33 ارب 15کروڑ یونٹ پیداوار حاصل ہوئی تھی۔مزید برآں اگر مالی سال20- 2019 کے دوران پیدا ہونے والی پن بجلی کا موازنہ مالی سال 19-2018 کی پیداوار سے کیا جائے تو یہ 6 ارب 23 کروڑ یونٹ زیادہ ہے۔ بجلی کی یہ

ریکارڈ پیداوار بہتر آبی صورتِ حال اور کورونا وائرس کی وبا کے باوجود واپڈاپن بجلی گھروں کی بہتر دیکھ بھال اور مثر آپریشن کے باعث ممکن ہوئی۔مالی سال 20-2019 کے دوران حاصل ہونے والی یہ پن بجلی یعنی 6 ارب 23کروڑ یونٹ پانی کی بجائے تھرمل ذرائع سے پیدا کرنا پڑتی تو قومی خزانے کو 87 ارب 22کروڑ روپے خرچ کرنا پڑتے۔ مالی سال 20-2019 کے دوران پن بجلی کی پیداوار کے اعداد و شمار کے مطابق تربیلا پن بجلی گھر نے نیشنل گرڈ کو 11 ارب 92 کروڑ یونٹ، تربیلا چوتھے توسیعی منصوبے نے 5 ارب 49 کروڑ یونٹ، غازی بروتھا نے 6 ارب 55 کروڑ یونٹ، منگلا نے 4 ارب 69 کروڑ یونٹ اور نیلم جہلم نے 4 ارب 84 کروڑ یونٹ پن بجلی فراہم کی۔ باقی 3 ارب 91 کروڑ یونٹ بجلی وارسک اور چشمہ سمیت واپڈا کے دیگر پن بجلی گھروں سے حاصل ہوئی۔ اِس وقت واپڈا کے پن بجلی گھروں کی تعداد 22ہے،جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 9 ہزار 389 میگاواٹ ہے۔پن بجلی کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے لئے واپڈا تین بڑے منصوبوں پر کام کر رہا ہے جن میں دیا مر بھاشا ڈیم، داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور مہمند ڈیم شامل ہیں۔اِن منصوبوں کے مکمل ہونے پر پن بجلی کی پیداواری صلاحیت میں مزید 9 ہزار 500میگاواٹ کا اضافہ ہوگا۔